ماسکو 3/اپریل (ایس او نیوز/ ایجنسی) روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ کی زیر زمین ٹرین سسٹم میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 50 کے قریب افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق روسی نیوز ایجنسی ’طاس‘ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ کی میٹرو ٹرین میں ہونے والے دھماکے میں 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد سینایا پلوشاڈ میٹرو اسٹیشن پر متعدد ایمبولینسز پہنچ گئیں۔ اُدھر معروف امریکی نیوز چینل اے بی سی نے مرنے والوں کی تعداد گیارہ بتائی ہے۔
سینٹ پیٹرزبرگ کی ایمرجنسی سروسز کا پہلے کہنا تھا کہ دھماکے دو مختلف میٹرو اسٹیشنز کی 2 مختلف ٹرین گاڑیوں میں ہوئے ہیں، تاہم بعد میں ایمرجنسی سروسز کے ذرائع نے بتایا کہ ایک ہی دھماکا ہوا البتہ یہ دھماکا دو اسٹیشنز کے درمیان واقع سرنگ میں ہوا۔
نیوز ایجنسی انٹر فیکس نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کم از کم ایک دھماکے میں شارپنِل سے بھری ڈیوائس کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں 20 افراد زخمی بھی ہوئے۔
مقامی میڈیا ادارے فونٹینکا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دھماکے کے بعد تین میٹرو اسٹیشنز کو بند کردیا گیا۔
سینٹ پیٹرزبرگ کی میٹرو انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ٹرین میں دھماکا ’نامعلوم چیز‘ کے پھٹنے سے ہوا۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم واقعے کو دہشت گردی سمیت تمام زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔
حکام کے مطابق دھماکا مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجکر 40 منٹ پر ہوا جس کے بعد سینٹ پیٹرزبرگ کے تمام میٹرو اسٹیشنز کو بند کردیا گیا۔
خیال رہے کہ روس شام سے واپس لوٹنے والے چیچن باغیوں کے حوالے سے خاصہ محتاط رہا ہے جو روس میں حملے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔
2010 میں ماسکو کی میٹرو ٹرین میں دو خواتین خودکش بمباروں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا تھا جس کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
2004 میں شدت پسندوں نے جنوبی روس میں سیکڑوں افراد کو یرغمال بنالیا تھا جس کے بعد پولیس نے آپریشن کیا تھا اور اس کے نتیجے میں 330 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ان میں نصف تعداد بچوں کی تھی۔
2002 میں اسی طرح ایک تھیٹر میں شدت پسندوں نے لوگوں کو یرغمال بنالیا تھا اور پولیس نے انہیں چھڑانے کی کوشش کی تھی تاہم اس کے نتیجے میں 120 یرغمالی مارے گئے تھے۔
1999 میں پیوٹن نے بطور وزیراعظم چیچنیا کے جنوبی خطے کی علیحدگی پسند حکومت کو کچلنے کی مہم شروع کی تھی اور بطور روسی صدر وہ بغاوت کو کچلنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔